

ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن
تمہارے تھے
ہم سے جتنے سخن
تمہارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن
تمہارے تھے
ہم سے جتنے سخن
تمہارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
رنگ و خوشبو کے
حسن و خوبی کے
رنگ و خوشبو کے
حسن و خوبی کے
تم سے تھے جتنے
استعارے تھے
تم سے تھے جتنے
استعارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
تیرے قول و قرار سے پہلے
تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی
سہارے تھے
اپنے کچھ اور بھی
سہارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن
تمہارے تھے
ہم سے جتنے سخن
تمہارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
میرے دامن میں
آ گرے سارے
میرے دامن میں
آ گرے سارے
جتنے طشت فلک میں
تارے تھے
جتنے طشت فلک میں
تارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
جو سائے دور چراغوں کے گرد لرزاں ہیں
جو سائے دور چراغوں کے گرد لرزاں ہیں
نہ جانے محفل غم ہے کہ بزم جام و سبو
جو رنگ ہر در و دیوار پر پریشاں ہیں
یہاں سے کچھ نہیں کھلتا یہ پھول ہیں کہ لہو
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن
تمہارے تھے
ہم سے جتنے سخن
تمہارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
ہم نے سب شعر میں
سنوارے تھے
Quelle: LRCLIB
Noch keine ähnlichen Songs
Keine Hörer-Daten
Keine Server-Daten
Keine letzten Wiedergaben