

ہم کیوں چلیں اس راہ پر
جس راہ پر سب ہی چلیں
ہم کیوں چلیں اس راہ پر
جس راہ پر سب ہی چلیں
کیوں نہ چنے وہ راستہ
جس پر نہیں کوئی گیا
دل اداس،نظریں اداس
دلبر نہیں گر آس پاس
دن رات آہ بھرنا
اور بےقرار رہنا
یہ کھیل ہی بےکار ہے
کچھ بھی نہیں انگار ہے
اس آگ میں جلیں کیوں
پل پل جیے، مریں کیوں
ہم کیوں چلیں اس راہ پر
جس راہ پر سب ہی چلیں
کیوں نہ چنے وہ راستہ
جس پر نہیں کوئی گیا
بس دیکھنے کی بات ہے
اک عشق کیا ہیں ہزار عشق
لاکھوں صنم چھپیں ہیں
اور راہ دیکھتے ہیں
چلو عشق کا کہا مان کر
اپنا صنم پہچان کر
کسی ایسے رنگ رنگ جائیں
سب سے جدا نظر آئے
سب سے جدا نظر آئے
سب سے جدا نظر آئے
ہم کیوں چلیں اس راہ پر
جس راہ پر سب ہی چلیں
کیوں نہ چنے وہ راستہ
جس پر نہیں کوئی گیا
Bron: LRCLIB
Nog geen vergelijkbare nummers
Geen luisteraarsdata
Geen serverdata
Geen recente weergaven